ممبئی،25؍مارچ (ایس او نیوز؍یو این آئی) دیونڈر فڈنویس پر راست حملہ کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وصولی کیسے کرتے ہیں؟ وصولی میں کس قدر حصہ داری ہوتی ہے؟ اور ان کی تقسیم کیسے کی جاتی ہے؟ اس کا بھرپور تجربہ حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس کو ہے اوروہ اپنے اسی تجربے کا فی الوقت عملی مظاہرہ کررہے ہیں۔
نانا پٹولے نے کہاکہ پانچ سال تک اقتدار میں رہتے ہوئے منترالیہ میں آر ایس ایس کے کارکنان کو تمام محکموں میں کس طرح گھسایا گیا، وہ کس طرح وصولی کررہے تھے اور اس وصولی میں سے کتنا حصہ آر ایس ایس کو جاتا تھا؟ ہم وزیر اعلیٰ سےملاقات کرکے اس باتوں کی مکمل تفتیش کرنے کا مطالبہ کرنے والے ہیں ۔
ناناپٹولے نے پولیس تبادلوں کے ضمن میں دیوندرفڈنویس کے ذریعے لگائے گیے الزامات کی بخیہ ادھیڑ دی اور کہاکہ اقتدار میں رہتے ہوئے دیوندرفڈنویس نے رشمی شکلا جیسے افسران کو استعمال کرتے ہوئے کس کو کتنا حصہ دینا ہے اس کا بھرپور تجربہ حاصل کیا ہے۔ بی جے پی نے آئی اے ایس و آئی پی ایس پر مرکزی حکومت کے ذریعے دباؤ ڈال کر اقتدار غلط استعمال کیا ہے۔ ایسے افسران کسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر کام نہ کریں۔ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت کو بی جے پی بدنام کرنےکی کوشش کررہی ہے لیکن مہاراشٹر کے عوام اس کے اس کھیل کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ فڈنویس کا رویہ خود کو جج سمجھنے کا ہے۔ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افسران تو کبھی راج بھون کا استعمال کیا جارہا ہے۔ دیوندرفڈنویس دراصل جھوٹوں کے شہنشاہ ہیں جو اسمبلی میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔
سابق پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ پر کل تک یہی بی جے پی والے تنقید کررہے تھے، اور اب وہی پرمبیرسنگھ ان کے محبوب بن چکے ہیں۔ وہ کس کے اشارے پر کام کررہے ہیں؟ اس کی ہمیں بخوبی معلومات ہے۔ ممبرپارلیمنٹ موہن ڈیلکر نے ممبئی میں خودکشی کی، اس کی ایف آئی آر درج کرنے میں بھی پرمبیرسنگھ نے ٹال مٹول کی۔ ان کا کردار مشکوک رہ چکا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فی الوقت جو معاملہ جاری ہے اس کا ہائی کورٹ کے جج یا کسی سبکدوش جج کے ذریعہ تفتیش کرائی جائے۔ اگر میں حکومت میں ہوتا تو پرمبیر سنگھ نے جو حرکتیں کی ہیں، اس کی پاداش میں ان کا تبادلہ نہیں بلکہ انہیں معطل کردیتا۔
ناناپٹولے نے کہاکہ اصل معاملہ مکیش امبانی کے گھر کے قریب جیلیٹن کی سلاخیں رکھی ہوئی گاڑی کا تھا۔ یہ جلیٹین کی سلاخیں کہاں سے آئیں؟ اس کی تفتیش جاری رہتے ہوئے منسوکھ ہرین کی موت کا معاملہ ہوگیا۔ اس معاملے کی تفیش اے ٹی ایس نہات عمدہ طریقے سے کررہی تھی کہ بی جے پی کے لوگوں نے اس کی تفتیش این آئی اے کے سپرد کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اب اس کا مزید ہوّا کھڑا کیا جارہا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ عوام کا مہنگائی سے جینا دوبھر ہوگیا ہے، بیروزگاری میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ ان بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی نے یہ پورا جھوٹ کا بازار گرم کیا ہے۔ ناناپٹولے کی میڈیا سے خطاب کے دوران ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر ایم ایل اے کنال پاٹل، ایم ایل اے سنگرام تھوپٹے وریاستی کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے بھی موجود تھے۔